بسم اللہ الرحمن الرحیم
سیفٹی کیا ہے؟ یہ ایک بہت سادہ اور آسان سا سوال لگتا ہے، لیکن اس کا جواب اتنا آسان نہیں ہے۔ تاہم، اس کی اگر اساس کی بات کی جائے، یا بنیادی طور پر ہم دیکھیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ سیفٹی اخلاقیات ہے، یعنی ایتھکس۔ یا بلفاظ دیگر ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ سیفٹی ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔
یہ اخلاقیات یا اخلاقی ذمہ داری کیسے ہے؟
یہ اخلاقیات یا اخلاقی ذمہ داری کیسے ہے؟ جب بھی ہم حفاظت کے تقاضوں پر عمل کی بات کرتے ہیں، یعنی سیفٹی امپلیمنٹیشن کی، یا ہمیں اس کی کہیں تصدیق کرنی ہوتی ہے، ویریفکیشن کرنی ہوتی ہے، جیسے کہ کہیں ہم انسپکشن کر رہے ہیں یا سپرویزن کر رہے ہیں، یا ہمیں کہیں پہ اس کا عملی مظاہرہ کرنا ہو، یعنی سیفٹی سے کام کرنا ہو، سیفٹی ڈیمونسٹریشن، ڈوئنگ ورک ود سیفٹی۔ تو بات آخر فرد کے انتخاب پر منحصر ہوتی ہے۔
کوئی بھی معاشی، معاشرتی یا سماجی، یا قانونی تقاضہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ حفاظت کے اصولوں پر صحیح سی عمل ہوا ہے، یعنی سیفٹی صحیح امپلیمنٹ ہوئی ہے، جب تک کہ فرد کے اندراحساسِ ذمہ داری موجود نہ ہو۔ یہی مثبت رویہ اصل اخلاقیات ہے جہاں ہم صرف دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں اپنی سیفٹی کی ذمہ داری پوری کرتے ہیں-
آئیے، اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کریں کہ میں ایک فیلڈ انسپکٹر ہوں۔
جس نے کسی مشین یا ایکوپمنٹ کی انسپیکشن کرنی ہے، اس کردار میں میں اگر موقعے پر نہ جا کر یا صحیح سے جانچ نہ کر کے صرف رپورٹ پر سب دوست ظاہر کر دوں، یا ریکارڈ پر دستخط کر دوں، تو میں نے کیا کیا؟
جی ہاں، اس انسپیکشن کی یا ریکارڈ کی رسمی ضرورت تو پوری ہو گئی، لیکن کیا واقعی یہ سیفٹی کو یقینی بناتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
میں نے اپنی اخلاقی ذمہ داری پہ سمجھوتہ کر لیا، اور ایک غیر محفوظ اور غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر دی، اور دوسروں کی زندگی کو ان کی حفاظت یا سیفٹی کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔
اب ایک اور مثال لیتے ہیں، فرض کریں کہ میں شاپ فلور پہ کام کر رہا ہوں، یعنی ٹریڈ مین ہوں، کرافٹس مین ہوں، اور کوئی میری نگرانی نہیں کر رہا، یا سپروائزر کی توجہ چند لمحوں کے لیے کسی اور طرف ہو جاتی ہے۔ میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، عائدے قانون کو نظرانداز کرتا ہوں اور جلدی کام کر لیتا ہوں۔ یعنی غیر محفوظ راستہ اختیار کرتے ہوئے یا شارٹ کٹ لیتے ہوئے۔ تو اب میں نے کیا کیا؟
بالکل درست، میں نے نہ صرف اپنی حفاظت، بلکہ اپنے اردگرد موجود افراد کی حفاظت کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ اسی طرح کام کی کوالٹی، اس کے معیار پہ بھی یہ سمجھوتہ ہوتا ہے، جو بعد میں جا کر کسی نقصان کا، کسی حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ کسی کام کا بغیر حادثے کے مکمل ہو جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کام محفوظ طریقے سے کیا گیا تھا۔ ایسے حالات میں اکثر غیر ضروری اور سنگین خطرات موجود ہوتے ہیں، جو صرف خوش قسمتی سے حادثے میں تبدیل نہیں ہوتے۔
خصوصاً وہ افراد جو حفاظتی تقاضوں کے نفاذ اور ان کی تصدیق کے ذمہ دار ہوتے ہیں، ان کے لیے پیشہ ورانہ بلکہ ذاتی اخلاقیات پر قائم رہنا انتہائی ضروری ہے۔
مختلف مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر صنعتی حادثات میں کسی نہ کسی حد تک انسانی عنصر شامل ہوتا ہے۔ اس میں انسانی غلطیاں، علم کی کمی یا ناکافی آگاہی شامل ہو سکتی ہے، لیکن ایک بڑا سبب جان بوجھ کر حفاظتی طریقۂ کار کو نظر انداز کرنا یا ان سے انحراف کرنا بھی ہے۔
مختلف مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر صنعتی حادثات میں کسی نہ کسی حد تک انسانی عنصر شامل ہوتا ہے۔ اس میں انسانی غلطیاں، علم کی کمی یا ناکافی آگاہی شامل ہو سکتی ہے، لیکن ایک بڑا سبب جان بوجھ کر حفاظتی طریقۂ کار کو نظر انداز کرنا یا ان سے انحراف کرنا بھی ہے۔ اگرچہ حادثات کی تحقیقات کسی فرد کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں کی جاتی، بلکہ ان کا مقصد بنیادی اسباب کی منصفانہ نشاندہی کرنا ہوتا ہے تاکہ ان کی دوبارہ روک تھام کی جائے، لیکن بنیادی اسباب کی درست نشاندہی بھی ضروری ہوتی ہے-
جب ہم کہتے ہیں کہ کسی فرد کی غلطی یا غفلت حادثے کا سبب بنی، تو اکثر اس سے مراد وہ واقعہ ہوتا ہے جس نے حادثے کو جنم دیا۔ مثال کے طور پر، ایک کم تجربہ کار آپریٹر کسی حساس یا اہم علاقے میں مشین چلا رہا ہو اور اس کے نتیجے میں ایک سنگین حادثہ پیش آ جائے۔ لیکن ذمہ داری صرف اسی آپریٹر تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس شخص تک بھی پہنچتی ہے جس نے اس کی محدود صلاحیت اور تجربے کے باوجود اسے اس کام کی اجازت دی یا تعینات کیا۔
اس تناظر میں اگرچہ حادثے کا فوری سبب آپریٹر کا عمل ہو سکتا ہے، لیکن اصل اور بنیادی کردار اس شخص کا بھی ہوتا ہے جو براہِ راست حادثے میں شامل نہیں تھا، مگر وہ آپریٹر کی صلاحیت، تجربے کی کمی اور کام کی حساسیت سے آگاہ ہونے کے باوجود اسے اس ذمہ داری کے لیے قبول کرتا ہے۔
صنعتی تاریخ پر نظر ڈالیں تو بے شمار حادثات ایسے ملتے ہیں جن کی جڑ افراد کی غفلت یا اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہ کرنے میں ملتی ہے۔ جدید حفاظتی سائنس میں نسبتاً متوازن اور سائنسی نقطۂ نظر یہ ہے کہ ذمہ داری کو صرف افراد تک محدود کرنے کے بجائے "سسٹم" یا کمپنی یا ادارہ کو بھی ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ کسی بھی ادارے کی حفاظتی ثقافت یعنی سیفٹی کلچر(حفاظتی ماحول) دراصل انہی افراد کے رویوں اور فیصلوں سے تشکیل پاتے ہیں۔
اگلی بار جب آپ کو کوئی فیصلہ کرنا ہو یا کسی حفاظتی تقاضے(سیفٹی کے معاملے) پر عمل درآمد کرنا ہو، تو یہ ضرور یاد رکھیں کہ آپ کا فیصلہ دوسروں پر بھی اثر انداز ہوگا۔ یہ اثر مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی، لیکن ہر صورت میں آپ اس کے لیے کسی نہ کسی حد تک جوابدہ ہوں گے۔ آخرکار جہاں ذمہ داریاں ہوتی ہیں، وہاں جوابدہی بھی لازمی ہوتی ہے۔


