HSE & Safety

سیفٹی ترجیح نہیں، ایک ضرورت ہے

By Abu Abbas
پیلے لاکرز میں رکھے حفاظتی ہیلمٹ، سرخی: سیفٹی کوئی ترجیح نہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سیفٹی کوئی ترجیح نہیں

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب ہم سیفٹی کو ترجیح بناتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟

ہم یقیناً سیفٹی، یعنی سلامتی، کو ترجیح دیتے ہیں، نہ صرف اپنی صنعتی اور پیشہ ورانہ زندگیوں میں بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی۔

ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیے: آپ نے اپنی ذاتی زندگی میں آخری مرتبہ اپنی سلامتی کو کب ترجیح دی تھی؟ بے شک، ہم ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔

اسی طرح ہم اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ سیفٹی ہماری ترجیح ہے۔ ہم اپنی میٹنگز میں اس کا ذکر کرتے اور اس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ہم ایسے نعرے اور سلوگن لگاتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ "سیفٹی ہماری ترجیح ہے"۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک عام سوچ ہے اور ہم عمومی طور پر سیفٹی، یعنی سلامتی، کو ترجیح دیتے ہیں۔

ایک صنعتی پیشہ ور کی حیثیت سے آئیے اس بات کا تجزیہ کریں کہ یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے اور سیفٹی کو ترجیح دینا ہمارے لیے کتنا فائدہ مند ہے۔

اگر ہم ایک بڑے صنعتی سانحے پر نظر ڈالیں، 2010 میں "ڈیپ واٹر ہورائزن" ڈرلنگ رگ کا حادثہ، 11 اموات اور 17 زخمی افراد۔ تقریباً 13.4 کروڑ گیلن تیل کا اخراج، جس کے نتیجے میں ماحولیاتی اثرات بڑے پیمانے پر ہوئے۔ "بی پی" کو 20 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا، دیگر اثاثوں اور وسائل کے نقصان کے علاوہ۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ ڈرلنگ مڈ کو قبل از وقت ہٹانے کے لیے ایک تجربہ کیا گیا۔ ایسا خطرہ مول لیا گیا جس کے اثرات انتہائی زیادہ نکلے۔

اسی طرح، 1988 میں "پایپر الفا" میں دھماکے اور آگ نے "نارتھ سی پلیٹ فارم" کو تباہ کر دیا۔ 167 افراد جاں بحق ہوئے۔ 1.4 ارب ڈالر کا بیمہ شدہ نقصان، پیداوار میں خلل اور سنگین ماحولیاتی نقصان۔ زندہ بچ جانے والوں اور ان کے اہل خانہ اور پیاروں کے لیے سنگین معاشرتی نتائج (معاشرتی مسائل/ ذہنی اذیت)۔ ورک پرمٹ سسٹم کی خامی اور مناسب شفٹ ہینڈاور کی کمی- کیا ایسی کمیوں کی قیمت انسانی جانوں سے ادا کرنا مناسب تھا-

ایک اور بڑی مثال، 1984 میں "یونین کاربائڈ کا بھوپال حادثہ"۔ زہریلی گیس کا اخراج، بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوئے تقریبا پانچ لاکھ افراد- 3800 فوری اموات، کل ابتدائی اموات 25 ہزار تک پہنچیں- دیگر اخراجات کے علاوہ، معاوضوں کی ادائیگی کی لاگت 47 کروڑ ڈالر آئی-   

کمیونٹی کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا یہ حادثہ، آج بھی کمیونٹی پر مستقل اثرات مرتب کر رہا ہے۔ زندہ بچ جانے والوں کو دائمی بیماری، معذوری، غربت، نفسیاتی صدمہ، اور مسلسل ماحولیاتی اور زیر زمین پانی کی آلودگی کا سامنا ہے۔ انتظامیہ کی ریفریجریشن اور اہم حفاظتی نظاموں میں بچت کے فیصلے کا اس حادثے کے اثرات کے مقابلے کوئی وزن نہ تھا۔ 

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اِن جگہوں کی انتظامیہ اور وہاں کام کرنے والوں کے لیے سیفٹی ترجیح نہ تھی؟ کیا وہ کبھی یہ نہیں کہتے یا دعویٰ کرتے ہوں گے کہ سلامتی ہماری ترجیح ہے؟ 

بلاشبہ ، سلامتی یا سیفٹی اُن کی بھی ترجیح تھی جیسا کہ ہر ایک کی ہوتی ہے۔ اگر یہ سچ تھا، تو پھر یہ سانحے کیوں واقع ہوئے؟ 

بہت آسان: ترجیحات ضروریات کے مطابق تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ہم اپنی ترجیحات بدلتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی دعویداری صرف نیک نامی یا دکھاوے کے لیے ہوتی ہے، ایک کور پیج کی طرح ، اور کبھی وقت کی کمی یا لاگت کے باعث ان پہ سمجھوتہ کیا جاتا ہے- 

ایک آسان مثال، جب ہم کھلے چھت والی گاڑی میں سفر کرتے ہیں، خوبصورت موسم اور ہموار سڑک پر چلتے ہیں، لیکن بارش شروع ہوتے ہی ترجیح بدل جاتی ہے۔ ہم چھت ڈھانپ لیتے ہیں۔ کیوں؟ 

کیونکہ وہ حالت یا چیز جس سے ہم لطف اندوز ہو رہے ہیں، کھلی چھت، اب ہمارے لیے فائدہ مند نہیں رہی۔ اسی لیے ہمیں چھت ڈھانپنی پڑتی ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہم ترجیح کے طور پر اپنے انتخاب اور مستقل فائدہ مند چیز کے درمیان فرق پیدا کرتے ہیں۔ 

تاہم، یہ سمجھنے کی بات ہے کہ جو کچھ ہم اپنے لیے فائدہ مند سمجھ رہے ہیں وہ حقیقتا بھی ہمارے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں؟ کیا یہ ہماری اصل ضرورت ہے یا نہیں؟

جی ہاں، ضرورت! یہی وہ چیز ہے جس کی ہمیں حقیقتًا فکر ہونی چاہیے اور اسی ضرورت کی تکمیل یا ضرورت کو ہی پورا کرنا فائدہ مند ہوتا ہے اور ہمیں ضرورت کو پورا کرنے کے بارے میں ہی فکر مند ہونا چاہیے-

مذکورہ تینوں بڑے حادثات میں، ترجیح میں معمولی تبدیلی ہوئی، اور ایک ہی جھٹکے میں تمام فریقوں کی ساری دنیا بدل کر رہ گئی- 

یہ حقیقت ہے، یہ فطرت ہے، اوراسی کوہمیں سوچنا چاہیے- سلامتی یا سیفٹی ترجیح نہیں؛ یہ ایک ضرورت ہے۔ اور ضروریات سے سمجھوتا نہیں کیا جاتا؛ انھیں پورا کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ گاڑی کی "ہیڈ لائیٹس"، ہم انہیں صرف خراب سڑکوں پر ہی نہیں بلکہ شام سے لے کر صبح تک مسلسل استعمال کرتے ہیں-

جب تک ہم اپنے کاموں اور فیصلوں میں سیفٹی کو مستقل جگہ نہیں دیں گے، ہم بڑے خطرات سے کھیلتے رہیں گے-

اسے ترجیح نہ سمجھیں - یہ ایک ضرورت ہے۔

 

اللہ نگہبان

More HSE Articles

Subscribe to HSE NOTEBOOK

Subscribe to receive the latest updates on HSE training, consultancy insights, safety certifications, auditing guides, and industry news.