بسم اللہ الرحمن الرحیم
سرٹیفیکیشن شارٹ کٹ
کیا آپ کو پاس ہونے کی سو فیصد گارنٹی چاہیے؟ یا ڈن بیس؟ سب کچھ ہم آپ کے لیے کریں گے۔ اس طرح سے سرٹیفکیٹ چاہیے؟ یا آپ کو ہم نام، آپ کے نام جیسا کوئی سرٹیفکیٹ چاہیے؟ اگر کوئی اسیسمنٹ لکھنی ہے، تو وہ ہم آپ کے لیے لکھیں گے۔ ہاں، یہ ویریفائی ایبل ہوگا، یہ تصدیق کیا جا سکے گا۔ سو فیصد قابل تصدیق ۔ ہم آپ کو آپ کا پیپر لکھنے میں، آپ کا امتحان لکھنے میں گائیڈ بھی کریں گے۔
یہ پیشکشیں پُرکشش لگتی ہیں، کیونکہ یہ سرٹیفکیٹ/سند حاصل کرنے کا آسان راستہ دکھاتی ہیں۔ لیکن یہ آپ کے سیکھنے(علم) میں کیا اضافہ کرتی ہیں؟ کیا یہ آپ کی پیشہ ورانہ اہلیت (کامپیٹنسی) بڑھاتی ہیں، یا اس پر کوئی اثر کرتی ہیں؟
صرف سند کسی شخص کو اہل نہیں بناتی، نہ ہی کسی چیز کے بارے میں اس کی علمی کمی کو پورا کرتی ہے۔ پیشہ ورانہ اہلیت مؤثر تربیت (ٹریننگ)، ذاتی مطالعے، عملی تجربے اور علم کو عمل میں لانے کی صلاحیت سے پیدا ہوتی ہے۔ دیانت دارانہ جانچ (امتحانات) یہ معلوم کرنے میں مدد دیتی ہے کہ آیا سیکھنے کے مقاصد (لرننگ آبجیکٹوز) حاصل ہوئے ہیں؟ سند کا اجرا (سرٹیفیکیشن) اس کامیابی کا ثبوت فراہم کرتا ہے، لیکن خود سیکھنے کے عمل کی جگہ نہیں لے سکتا۔
سند آپ کو ملازمت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، اگر آپ کے پاس اس عہدے کے لیے درکار علم اور مہارتیں نہیں ہیں تو سند آپ کی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتی۔ آپ کو درست فیصلے کرنے، مؤثر کردار ادا کرنے یا اپنی صلاحیتوں کی حدود پہچاننے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ صحت، سلامتی/سیفٹی اور ماحولیات (ہیلتھ سیفٹی اینڈ انوائرمنٹ) کے شعبے میں یہ کمزوریاں کارکنوں، ادارے اور ماحول کو لاحق خطرات (رسکس) بڑھا دیتی ہیں۔
آئیں، ہیلتھ سیفٹی اینڈ انوائرمنٹ کی اسناد حاصل کرنے کے لیے پیش کیے جانے والے شارٹ کٹس پر غور کریں۔
ڈن بیس سرٹیفکیٹ والے طریقہ کار میں امیدوار شاید فیس ادا کرنے کے سوا کچھ نہ کرے۔ اگر اس میں کوئی انٹرویو یا اسیسمنٹ شامل ہو تو ملی بھگت سے اس کا بھی انتظام کر لیا جاتا ہے ۔ یوں کوئی شخص تربیتی نصاب، اس کے مقاصد یا اس پیشہ ورانہ سند سے وابستہ ذمہ داریوں کو سمجھے بغیر سند حاصل کر سکتا ہے۔
ایک اور طریقے میں کوئی دوسرا شخص امیدوار کا امتحان/اسیسمنٹ مکمل کرتا ہے۔ امیدوار شرکت کا دکھاوا کر تا ہے، فراہم کردہ جوابات نقل کر سکتا ہے یا کسی اور کا تیار کردہ کام اپنے نام سے جمع کرا سکتا ہے۔ دستاویز پر امیدوار کا نام ہوتا ہے، لیکن جس کارکردگی کو جانچا جانا ہوتا ہے، وہ کسی اور کی ہوتی ہے۔
ملتے جلتے یا ہم نام سرٹیفیکیٹ کا طریقہ کار بھی ہے جس میں کسی اور شخص کی محنت اس کی حاصل کردہ سند کو اپنے نام سے یا اپنی طرف سے پیش کیا جاتا ہے اس میں محنت کسی اور شخص کی ہوتی ہے کامیابی کسی اور شخص کی ہوتی ہے اور اسے دھوکہ دہی سے کسی کے سامنے اپنی سند کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے-
ان طریقوں کا ذکر ان کی حمایت کے لیے نہیں کیا جا رہا۔ مقصد اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ یہ سیکھنے کے عمل سے کیا کچھ نکال دیتے ہیں: سیکھنے والے کی محنت، سمجھ بوجھ اور جواب دہی (اکاؤنٹیبلٹی)۔
حقیقی تربیت تصورات واضح کرتی ہے، سمجھ بوجھ کو پرکھتی ہے اور سیکھنے والوں کو بہتر ہونے میں مدد دیتی ہے۔ ان کی جگہ صرف اسیسمنٹ مکمل کرنا اس کے مقصد کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی طرح، کسی سند کا ”قابلِ تصدیق“ ہونا، بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اسے پیش کرنے والے شخص نے وہ دیانت داری سے حاصل کی ہے، یا وہ اس علم کو، جس کی سند وہ رکھتا ہے، عملی طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
سیکھنے کا اثر قوتِ فیصلہ اور کارکردگی میں نظر آنا چاہیے۔ ہیلتھ سیفٹی اینڈ انوائرمنٹ کے ماہرین کے لیے اس کا مطلب ہے نقصان کے ممکنہ ذرائع (ہیزرڈز) پہچاننا، مناسب حفاظتی تدابیر (کنٹرول میژرز) تجویز کرنا، ان کی مؤثریت جانچنا اور کارکنوں کو چوٹوں اور پیشوں سے وابستہ بیماریوں (آکیوپیشنل اِلنیسز) سے بچانے میں مدد دینا۔
اگر کوئی شخص بددیانتی سے حاصل کردہ اسناد کی بنیاد پر سیفٹی کے شعبے میں ملازمت حاصل کر لے تو کیا وہ ان ذمہ داریوں کو پورا کر سکتا ہے؟ جب وہ نقصان کے کسی ممکنہ ذریعے کو پہچاننے، کسی غیر محفوظ عمل پر اعتراض کرنے یا کسی نہایت اہم احتیاطی تدبیر کی تصدیق کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو اس کے نتائج کارکنوں کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ ان کے خاندان اور معاشرے بھی متاثر ہو تے ہیں۔
اس لیے آجروں کو صرف کاغذی ثبوتوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ اسناد کی تصدیق (کریڈینشل ویریفیکیشن) کے ساتھ عملی جانچ، متعلقہ تجربے اور مسلسل نگرانی کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ امیدواروں کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ سیکھنے میں موجود کمی مزید سیکھنے سے پوری ہوتی ہے، کسی زیادہ قائل کرنے والی سند سے نہیں۔
ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے شعبے میں سب سے زیادہ معروف پیغامات میں سے ایک یہ ہے کہ "کوئی شارٹ کٹ نہیں" (مختصر اور غیر محفوظ راستہ اختیار نہ کریں)۔ اس کا اطلاق کام کی جگہ کے ساتھ ساتھ ہماری اپنی پیشہ ورانہ ترقی پر بھی یکساں طور پر ہوتا ہے۔
دھوکے سے سند حاصل کرنے والا شخص کس اخلاقی بنیاد پر کسی کارکن سے کہہ سکتا ہے"کوئی شارٹ کٹ نہیں"؟
دوسروں کی حفاظت کی ذمہ داری، ہماری اپنی تیاری میں دیانت داری سے شروع ہوتی ہے۔
اللہ نگہبان



